Saturday, October 24, 2015

Merits and Demerits of Mass Media

The media that can influence people is called mass media. Nowadays it has become an agent to change the society through the world. There are many mass Medias. These are internet, radio, television, newspapers, blog, face book twitter, cinema etc. The importance of mass media can not be described in words. Mass media gives us news and views of the world. We can now know within shortest possible time what is happening in the farthest corner of the world in exchange of mass media.


It helps to reveal the news of people’s misery so that concerned authorities can take necessary steps. Today it has become a powerful weapon to change attitude and behavior. Mass media gives us not only entertainment but also information. The power of mass media beggars description. It can directly influence on people and create or change public opinion promptly. Mass media production, information and entertainment programmes can greatly impact on the people of society in any society of the world. Mass media directly or indirectly influences the political, social, economic and values.

The whole world has become a global village due to media. Today the powerful effects of media have spread in every society of all over the world. In spite of having all these importance mass media has some demerits too. Sometimes, mass media creates misunderstanding among the people providing false and baseless news. Besides, satellite channels often telecast some vulgar programs that damage the moral character of the young generation. Therefore, the using of mass media should be significant and for the betterment of the society.



(With thanks: M Haseeb Vohra, karachi) 

سرکاری اسکولوں سے سرکار کی بے اعتنائی

سرکاری اسکولوں سے سرکار کی بے اعتنائی


دونوں خبریں ایک ہی روز اخبار میں چھپیں۔ ویسے تو ہمارے یہاں ہر خبر کے لیے ’’زینت بنی‘‘ کا محاورہ استعمال کیا جاتا ہے، لیکن میں کہوں گی کہ ان دو خبروں نے دل دکھی کرتی اور مایوسی پھیلاتی دیگر خبروں کے ساتھ مل کر اخبار کی سیاہی میں اضافہ کیا۔ ان دونوں خبروں کی سرخیوں میں ایک لفظ مشترک تھا، اور وہ تھا ’’محروم‘‘ ایک کی سرخی تھی ’’سندھ کے ہائر سیکنڈری اسکول سہولتوں سے محروم‘‘ اور دوسری بتارہی تھی کہ ’’تین برس بھرتی کیے گئے اساتذہ اب تک تنخواہوں سے محروم‘‘، یعنی کُل ملا کے بات یہ ہوئی کہ تعلیم کا شعبہ حکومت کی توجہ سے محروم، سرکاری اسکول سرکار کی سرپرستی سے محروم، سرکاری اداروں میں پڑھنے والے طلبہ پڑھنے کے حق سے محروم۔

محرومی کی یہ داستان کئی عشروں پر پھیلی ہوئی ہے اور روز بہ روز الم ناک سے الم ناک تر ہوتی جارہی ہے۔ ملک میں انتہاپسندی کا فروغ، مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی، خود کش حملہ آور، بچوں میں جرائم کی شرح کا بڑھنا․․․یہ ساری سیاہ کہانیاں اسی داستان سے نکلی ہیں۔ ہماری حکومتوں نے تعلیم کے شعبے کو ایک طرف کم بجٹ کے ذریعے ابتر صورت حال تک پہنچایا ہے دوسری طرف تعلیمی اداروں، خاص طور پر اسکولوں میں ہر استحقاق اور اہلیت کو نظرانداز کرکے اپنے پیاروں کو نوازنے کے چلن نے ان اداروں کے حالات مزید بدتر کردیے ہیں، اور اب صورت حال یہ ہے کہ معاشی حالات سے مجبور والدین ہی اپنے بچوں کو سرکاری یا بہ الفاظ دیگر پیلے اسکولوں میں داخل کرواتے ہیں ورنہ جو والدین ذرا سی بھی استطاعت رکھتے ہیں اپنی اولاد کو نجی اسکولوں کے حوالے کرتے ہیں اور پھر اسکولوں سے اعلیٰ تعلیم کے اداروں تک فیسیں بھرنے اور دیگر تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں عمر بتا دیتے ہیں۔

یوں تو ملک بھر کے سرکاری اسکول زبوں حالی کا شکار ہیں لیکن صوبہ سندھ میں ان کی حالت اور بھی خراب ہے۔ ٹوٹی پھوٹی عمارتیں، بنیادی سہولیات ناپید، گھوسٹ اساتذہ، سفارش پر بھرتی کیے گئے نااہل استاد، اور کہیں کہیں تو اسکول صرف دستاویزات میں موجود ․․․․․ایسے میں سندھ کے غریبوں، مزدوروں اور کسانوں کے بچوں کا مستقبل اپنے ماں باپ کے حال کے عکس کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔

گذشتہ سال سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ’’پاکستان وہ دوسرا ملک ہے جہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح، دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، جب کہ سندھ ملک کا وہ صوبہ ہے جہاں سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی صورتِ حال ابتر ہے۔‘‘

یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد ڈھائی کروڑ ہے جو اسکول نہیں جاتے، جب کہ ان میں ستّر لاکھ بچے ایسے ہیں جو پرائمری اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کی عمر کو پہنچ چکے۔

اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے رپورٹ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں پینسٹھ فی صد اسکولوں میں پینے کے پانی کی سہولت دست یاب ہے۔ باسٹھ فیصد میں واش روم ہیں۔ اکسٹھ فی صد اسکولوں کی چار دیواری موجود ہے اور اْنتالیس فی صد میں بجلی ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں ملک کے پینتیس فی صد اسکول پانی جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں، اڑتیس فی صد اسکولوں میں واش روم تک نہیں، انتالیس فی صد اسکول چاردیواری کے بغیر ہیں، ظاہر ہے ان میں لڑکیوں کے اسکول بھی شامل ہیں، اور جناب! بجلی تو ہمارے یہاں ہے ہی عیاشی، تو اگر اکسٹھ فی صد اسکول اندھیرے میں ڈوبے ہیں تو حیرت کیسی اور مذمت کیسی۔
اس رپورٹ کے مطابق بنیادی سہولتوں یعنی انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے ملک بھر میں سب سے خراب صورتِ حال سندھ میں ہے، جہاں پینتیس فی صد سرکاری اسکولوں کی عمارتیں موجود نہیں اور اسکول ہیں تو زیادہ تر کی چار دیواری نہیں ہے۔

سہولتوں کی عدم فراہمی کی یہ شرح خیبر پختونخواہ میں تئیس، بلوچستان میں اٹھارہ اور پنجاب میں دس فی صد ہے۔

اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پورے پاکستان میں تیس ہزار سرکاری اسکول ایسے ہیں، جن کا عملی طور پر کوئی وجود نہیں، لیکن ان اسکولوں کو حکومت کی طرف سے بدستور فنڈز مل رہے ہیں۔

سرکاری اسکولوں کی یہی حالت ہے جس کے باعث والدین اپنے بچوں کو ان کے اچھے مستقبل کی آس میں نجی اسکولوں میں داخل کرواتے ہیں اور پھر ان اسکولوں کی من مانیاں برداشت کرتے رہتے ہیں۔ حکومت تو گویا تعلیم کی نج کاری کر چکی ہے، اس لیے اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ نجی اسکول کس طرح اور کن کن طریقوں سے والدین کی کھال کھینچ رہے ہیں۔ حال ہی میں نجی اسکولوں کی جانب سے فیس بڑھانے کے اقدام پر کچھ واویلا ہوا، لیکن یہ اسکول اپنی منوا کر ہی رہے۔

نجی ادارے تعلیم فراہم کر رہے ہوں، صحت سے متعلق ہوں یا کوئی اور ایسی سہولت فروخت کر رہے ہوں جو دراصل حکومت اور ریاست کی ذمے داری ہے، ان سے گلہ کرنا فضول ہے، یہ ادارے سرمایہ لگاکر دولت کے ڈھیر بڑھانے کے لیے وجود میں لائے جاتے ہیں، چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر ان اداروں کو صرف کاروباری مقاصد اور فوائد کے لیے قائم کیا جاتا ہے، شکوہ تو حکومت اور ریاست سے ہے جو عوام کے حقوق کی حفاظت اور ان بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی ذمے داری سے عملی طور پر سبکدوش ہوچکی ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عام آدمی نجی اسکولوں، نجی اسپتالوں، نجی ٹرانسپورٹ، بورنگ کے پانی، منرل واٹر، جنریٹر اور یوپی ایس کی صورت میں وہ بنیادی سہولتیں جن کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہے خرید رہا ہے یا اپنے ذرائع سے حاصل کر رہا ہے۔

جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے تو صرف حکم رانوں کے غیرضروری اخراجات اور تعیشات کو کم کرکے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنائی جاسکتی ہے، لیکن حکم راں تعلیم کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں تب ہی یہ ممکن ہے۔ جس پاکستان کی تبدیلی اور جسے انقلاب سے آشنا کرنے کے نعرے لگائے جاتے ہیں، اس کا سنہرا مستقبل اچھے سرکاری اسکولوں ہی میں تشکیل پاسکتا ہے، چار دیواری اور بجلی سے محروم اسکول تو غیرمحفوظ مستقبل اور اندھیرے ہی جنم دے سکتے ہیں۔
 

(Author: Sana Ghori, Karachi)

 

ڈینگی بخار


ڈینگی بخار نے آج کل پھر عوام کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ہے ،کراچی، راولپنڈی، ملتان اور پشاور کے عوام اس بخار سے سب سے زیادہ متاثر ہوئےہیں ۔

ڈینگی بخار کا علاج اگر بروقت نا کروایا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، ڈینگی بخار مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، یہ مچھر صاف پانی پر افزائش پاتا ہے اور اس کے کاٹنے سے انسان ڈینگی بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

یہ مچھر زیادہ تر گھروں میں افزائش پاتا ہے، اس مچھر کی ایک مخصوص پہچان ہے اس کے جسم پر سیاہ سفید نشان ہوتے ہیں، ڈینگی پھیلانے والا مچھر زیادہ تر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے، اس مچھر کے کاٹنے سے ہر سال کروڑوں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

ڈینگی چھوت کی بیماری نہیں ہے کسی متاثرہ مریض سے یہ صحت مند شخص کو نہیں ہوتا، یہ ایک مخصوص مچھر aedes aegypiti کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، ہر سال بائیس ہزار سے زائد افراد اس بخار کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

اس بخار کی علامتیں چار سے چھ دن میں ظاہر ہوتی ہیں، اچانک 104 فارن ہائٹ تکتیز بخار ، سر میں درد،جوڑوں میں درد،آنکھوں کے پیچھے درد، قے، جسم پر سرخ دھبے اس بخار کی علامات میں شامل ہیں، اگر اس کے علاج پر توجہ نا دی جائے تو یہ ڈینگی بخار ڈینگی ہیمرجک فیور میں تبدیل ہو جاتا ہے،جس کے باعث خون میں سفید خلیے بہت کم ہوجاتے ہیں، بلڈ پریشر لو ہوجاتا ہے، مسوڑوں، ناک، منہ سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے اور جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، انسان کومہ میں چلا جاتا ہے اور اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

ڈینگی بخار کو ایک بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے تشخیص کیا جاتا ہے، ٹیسٹ اگر مثبت آجائے تو فوری طور پر علاج شروع کیا جاتا ہے، اس مرض کے لئے کوئی مخصوص دوا تو دستیاب نہیں ہے، ڈاکٹر مریض کے جسم میں نمکیات پانی کی مقدار کو زیادہ کرتے ہیں اور ساتھ میں انہیں درد کو کم کرنے کی ادویات دی جاتی ہیں، ڈینگی ہمیرجک فیور میں پلیٹ لیٹس لگائی جاتی ہیں،اس مرض سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے.انسان خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائے۔

ڈینگی بخار سے بچنے کے لئے یہ احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں، سب پہلے تو کسی بھی جگہ پر پانی کھڑا نہ ہونے دیں، اگر پانی ذخیرہ کرنا ہو تو اس کو لازمی طور پر ڈھانپ دیں، گھر میں لگے پودوں اور گملوں میں پانی جمع نا ہونے دیں، کوڑاکرکٹ جمع نہ ہونے دیں، پرانے ٹائر خاص طور پر ان مچھروں کی آماجگاہ ہوتے ہیں انہیں گھر پر نا رکھیں، گھر میں پانی کی ٹینکی کو ڈھانپ کر رکھیں، باتھ روم میں بھی پانی کھڑا نا ہونے دیں اور اس کا دروازہ بند رکھیں، روم کولرز میں سے پانی نکال دیں، اسٹور کی بھی صفائی کریں اور وہاں بھی اسپرے کریں، اگر تب بھی مچھروں سے نجات نا ہو تو مقامی انتظامیہ سے اسپرے کی درخواست کریں۔

اپنی حفاظت کے لئےمچھر مار اسپرے استعمال کریں یا مچھربھگائو لوشن استعمال کریں، پورے بازو کی قمیض پہنیں اور جو حصہ کپڑے سے نا ڈھکا ہو جیسا ہاتھ ، پائوں، گردن وغیرہ وہاں پر لوشن لگائیں، گھر میں جالی لگوائیں اور بلاضرورت کھڑکیاں نا کھو لیں، ڈینگی کا مچھر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ کاٹتا ہے، اس لئے اس وقت خاص طور پر احتیاط کریں، سوتے وقت نیٹ کے اندر سوئیںاورکوائیل کا استعمال کریں۔

ڈینگی کا علاج اگر بروقت شروع کروالیا جائے تو مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے، اس بات کا خاص خیال رکھاجائےکہ مریض کوپانی ،جوس ،دودھ ،فروٹس اور یخنی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کروایا جائے، سیب کے جوس میں لیموں کا عرق بھی مریض میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے، اس کو ہرگز بھی اسپرین نا دی جائے۔

تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ستمبر، اکتوبر اور نومبر جو ڈینگی مچھر کے افزائش کے ماہ ہیں، ان میں متواتر اسپرے کروائیں، جہاں پانی کھڑا ہو وہاں پر خاص طور پر اسپرے بہت ضروری ہے۔

عوام میں اس مرض سے بچنے کے لئے آگاہی پھیلائیں، اسپتالوں میں ڈینگی بخار سے متعلق معلوماتی کائونٹر قائم کئے جائیں، اس مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے اگر ان مچھروں کی افزائش نا ہونے دی جائے، 2011 جیسی صورتحال سے بچنے کے لئے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی حکومتوں کو کام شروع کردینا چاہئے۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias


.....جویریہ صدیق.....
ڈینگی بخار نے آج کل پھر عوام کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ہے ،کراچی، راولپنڈی، ملتان اور پشاور کے عوام اس بخار سے سب سے زیادہ متاثر ہوئےہیں ۔

ڈینگی بخار کا علاج اگر بروقت نا کروایا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، ڈینگی بخار مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، یہ مچھر صاف پانی پر افزائش پاتا ہے اور اس کے کاٹنے سے انسان ڈینگی بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

یہ مچھر زیادہ تر گھروں میں افزائش پاتا ہے، اس مچھر کی ایک مخصوص پہچان ہے اس کے جسم پر سیاہ سفید نشان ہوتے ہیں، ڈینگی پھیلانے والا مچھر زیادہ تر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے، اس مچھر کے کاٹنے سے ہر سال کروڑوں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

ڈینگی چھوت کی بیماری نہیں ہے کسی متاثرہ مریض سے یہ صحت مند شخص کو نہیں ہوتا، یہ ایک مخصوص مچھر aedes aegypiti کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، ہر سال بائیس ہزار سے زائد افراد اس بخار کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

اس بخار کی علامتیں چار سے چھ دن میں ظاہر ہوتی ہیں، اچانک 104 فارن ہائٹ تکتیز بخار ، سر میں درد،جوڑوں میں درد،آنکھوں کے پیچھے درد، قے، جسم پر سرخ دھبے اس بخار کی علامات میں شامل ہیں، اگر اس کے علاج پر توجہ نا دی جائے تو یہ ڈینگی بخار ڈینگی ہیمرجک فیور میں تبدیل ہو جاتا ہے،جس کے باعث خون میں سفید خلیے بہت کم ہوجاتے ہیں، بلڈ پریشر لو ہوجاتا ہے، مسوڑوں، ناک، منہ سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے اور جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، انسان کومہ میں چلا جاتا ہے اور اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

ڈینگی بخار کو ایک بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے تشخیص کیا جاتا ہے، ٹیسٹ اگر مثبت آجائے تو فوری طور پر علاج شروع کیا جاتا ہے، اس مرض کے لئے کوئی مخصوص دوا تو دستیاب نہیں ہے، ڈاکٹر مریض کے جسم میں نمکیات پانی کی مقدار کو زیادہ کرتے ہیں اور ساتھ میں انہیں درد کو کم کرنے کی ادویات دی جاتی ہیں، ڈینگی ہمیرجک فیور میں پلیٹ لیٹس لگائی جاتی ہیں،اس مرض سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے.انسان خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائے۔

ڈینگی بخار سے بچنے کے لئے یہ احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں، سب پہلے تو کسی بھی جگہ پر پانی کھڑا نہ ہونے دیں، اگر پانی ذخیرہ کرنا ہو تو اس کو لازمی طور پر ڈھانپ دیں، گھر میں لگے پودوں اور گملوں میں پانی جمع نا ہونے دیں، کوڑاکرکٹ جمع نہ ہونے دیں، پرانے ٹائر خاص طور پر ان مچھروں کی آماجگاہ ہوتے ہیں انہیں گھر پر نا رکھیں، گھر میں پانی کی ٹینکی کو ڈھانپ کر رکھیں، باتھ روم میں بھی پانی کھڑا نا ہونے دیں اور اس کا دروازہ بند رکھیں، روم کولرز میں سے پانی نکال دیں، اسٹور کی بھی صفائی کریں اور وہاں بھی اسپرے کریں، اگر تب بھی مچھروں سے نجات نا ہو تو مقامی انتظامیہ سے اسپرے کی درخواست کریں۔

اپنی حفاظت کے لئےمچھر مار اسپرے استعمال کریں یا مچھربھگائو لوشن استعمال کریں، پورے بازو کی قمیض پہنیں اور جو حصہ کپڑے سے نا ڈھکا ہو جیسا ہاتھ ، پائوں، گردن وغیرہ وہاں پر لوشن لگائیں، گھر میں جالی لگوائیں اور بلاضرورت کھڑکیاں نا کھو لیں، ڈینگی کا مچھر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ کاٹتا ہے، اس لئے اس وقت خاص طور پر احتیاط کریں، سوتے وقت نیٹ کے اندر سوئیںاورکوائیل کا استعمال کریں۔

ڈینگی کا علاج اگر بروقت شروع کروالیا جائے تو مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے، اس بات کا خاص خیال رکھاجائےکہ مریض کوپانی ،جوس ،دودھ ،فروٹس اور یخنی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کروایا جائے، سیب کے جوس میں لیموں کا عرق بھی مریض میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے، اس کو ہرگز بھی اسپرین نا دی جائے۔

تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ستمبر، اکتوبر اور نومبر جو ڈینگی مچھر کے افزائش کے ماہ ہیں، ان میں متواتر اسپرے کروائیں، جہاں پانی کھڑا ہو وہاں پر خاص طور پر اسپرے بہت ضروری ہے۔

عوام میں اس مرض سے بچنے کے لئے آگاہی پھیلائیں، اسپتالوں میں ڈینگی بخار سے متعلق معلوماتی کائونٹر قائم کئے جائیں، اس مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے اگر ان مچھروں کی افزائش نا ہونے دی جائے، 2011 جیسی صورتحال سے بچنے کے لئے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی حکومتوں کو کام شروع کردینا چاہئے۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias - See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=11172#sthash.5dNKpHdG.dpuf

.....جویریہ صدیق.....
ڈینگی بخار نے آج کل پھر عوام کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ہے ،کراچی، راولپنڈی، ملتان اور پشاور کے عوام اس بخار سے سب سے زیادہ متاثر ہوئےہیں ۔

ڈینگی بخار کا علاج اگر بروقت نا کروایا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، ڈینگی بخار مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، یہ مچھر صاف پانی پر افزائش پاتا ہے اور اس کے کاٹنے سے انسان ڈینگی بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

یہ مچھر زیادہ تر گھروں میں افزائش پاتا ہے، اس مچھر کی ایک مخصوص پہچان ہے اس کے جسم پر سیاہ سفید نشان ہوتے ہیں، ڈینگی پھیلانے والا مچھر زیادہ تر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے، اس مچھر کے کاٹنے سے ہر سال کروڑوں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

ڈینگی چھوت کی بیماری نہیں ہے کسی متاثرہ مریض سے یہ صحت مند شخص کو نہیں ہوتا، یہ ایک مخصوص مچھر aedes aegypiti کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، ہر سال بائیس ہزار سے زائد افراد اس بخار کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

اس بخار کی علامتیں چار سے چھ دن میں ظاہر ہوتی ہیں، اچانک 104 فارن ہائٹ تکتیز بخار ، سر میں درد،جوڑوں میں درد،آنکھوں کے پیچھے درد، قے، جسم پر سرخ دھبے اس بخار کی علامات میں شامل ہیں، اگر اس کے علاج پر توجہ نا دی جائے تو یہ ڈینگی بخار ڈینگی ہیمرجک فیور میں تبدیل ہو جاتا ہے،جس کے باعث خون میں سفید خلیے بہت کم ہوجاتے ہیں، بلڈ پریشر لو ہوجاتا ہے، مسوڑوں، ناک، منہ سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے اور جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، انسان کومہ میں چلا جاتا ہے اور اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

ڈینگی بخار کو ایک بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے تشخیص کیا جاتا ہے، ٹیسٹ اگر مثبت آجائے تو فوری طور پر علاج شروع کیا جاتا ہے، اس مرض کے لئے کوئی مخصوص دوا تو دستیاب نہیں ہے، ڈاکٹر مریض کے جسم میں نمکیات پانی کی مقدار کو زیادہ کرتے ہیں اور ساتھ میں انہیں درد کو کم کرنے کی ادویات دی جاتی ہیں، ڈینگی ہمیرجک فیور میں پلیٹ لیٹس لگائی جاتی ہیں،اس مرض سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے.انسان خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائے۔

ڈینگی بخار سے بچنے کے لئے یہ احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں، سب پہلے تو کسی بھی جگہ پر پانی کھڑا نہ ہونے دیں، اگر پانی ذخیرہ کرنا ہو تو اس کو لازمی طور پر ڈھانپ دیں، گھر میں لگے پودوں اور گملوں میں پانی جمع نا ہونے دیں، کوڑاکرکٹ جمع نہ ہونے دیں، پرانے ٹائر خاص طور پر ان مچھروں کی آماجگاہ ہوتے ہیں انہیں گھر پر نا رکھیں، گھر میں پانی کی ٹینکی کو ڈھانپ کر رکھیں، باتھ روم میں بھی پانی کھڑا نا ہونے دیں اور اس کا دروازہ بند رکھیں، روم کولرز میں سے پانی نکال دیں، اسٹور کی بھی صفائی کریں اور وہاں بھی اسپرے کریں، اگر تب بھی مچھروں سے نجات نا ہو تو مقامی انتظامیہ سے اسپرے کی درخواست کریں۔

اپنی حفاظت کے لئےمچھر مار اسپرے استعمال کریں یا مچھربھگائو لوشن استعمال کریں، پورے بازو کی قمیض پہنیں اور جو حصہ کپڑے سے نا ڈھکا ہو جیسا ہاتھ ، پائوں، گردن وغیرہ وہاں پر لوشن لگائیں، گھر میں جالی لگوائیں اور بلاضرورت کھڑکیاں نا کھو لیں، ڈینگی کا مچھر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ کاٹتا ہے، اس لئے اس وقت خاص طور پر احتیاط کریں، سوتے وقت نیٹ کے اندر سوئیںاورکوائیل کا استعمال کریں۔

ڈینگی کا علاج اگر بروقت شروع کروالیا جائے تو مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے، اس بات کا خاص خیال رکھاجائےکہ مریض کوپانی ،جوس ،دودھ ،فروٹس اور یخنی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کروایا جائے، سیب کے جوس میں لیموں کا عرق بھی مریض میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے، اس کو ہرگز بھی اسپرین نا دی جائے۔

تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ستمبر، اکتوبر اور نومبر جو ڈینگی مچھر کے افزائش کے ماہ ہیں، ان میں متواتر اسپرے کروائیں، جہاں پانی کھڑا ہو وہاں پر خاص طور پر اسپرے بہت ضروری ہے۔

عوام میں اس مرض سے بچنے کے لئے آگاہی پھیلائیں، اسپتالوں میں ڈینگی بخار سے متعلق معلوماتی کائونٹر قائم کئے جائیں، اس مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے اگر ان مچھروں کی افزائش نا ہونے دی جائے، 2011 جیسی صورتحال سے بچنے کے لئے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی حکومتوں کو کام شروع کردینا چاہئے۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias - See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=11172#sthash.5dNKpHdG.dpuf
.....جویریہ صدیق.....
ڈینگی بخار نے آج کل پھر عوام کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ہے ،کراچی، راولپنڈی، ملتان اور پشاور کے عوام اس بخار سے سب سے زیادہ متاثر ہوئےہیں ۔

ڈینگی بخار کا علاج اگر بروقت نا کروایا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، ڈینگی بخار مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، یہ مچھر صاف پانی پر افزائش پاتا ہے اور اس کے کاٹنے سے انسان ڈینگی بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

یہ مچھر زیادہ تر گھروں میں افزائش پاتا ہے، اس مچھر کی ایک مخصوص پہچان ہے اس کے جسم پر سیاہ سفید نشان ہوتے ہیں، ڈینگی پھیلانے والا مچھر زیادہ تر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے، اس مچھر کے کاٹنے سے ہر سال کروڑوں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

ڈینگی چھوت کی بیماری نہیں ہے کسی متاثرہ مریض سے یہ صحت مند شخص کو نہیں ہوتا، یہ ایک مخصوص مچھر aedes aegypiti کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، ہر سال بائیس ہزار سے زائد افراد اس بخار کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

اس بخار کی علامتیں چار سے چھ دن میں ظاہر ہوتی ہیں، اچانک 104 فارن ہائٹ تکتیز بخار ، سر میں درد،جوڑوں میں درد،آنکھوں کے پیچھے درد، قے، جسم پر سرخ دھبے اس بخار کی علامات میں شامل ہیں، اگر اس کے علاج پر توجہ نا دی جائے تو یہ ڈینگی بخار ڈینگی ہیمرجک فیور میں تبدیل ہو جاتا ہے،جس کے باعث خون میں سفید خلیے بہت کم ہوجاتے ہیں، بلڈ پریشر لو ہوجاتا ہے، مسوڑوں، ناک، منہ سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے اور جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، انسان کومہ میں چلا جاتا ہے اور اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

ڈینگی بخار کو ایک بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے تشخیص کیا جاتا ہے، ٹیسٹ اگر مثبت آجائے تو فوری طور پر علاج شروع کیا جاتا ہے، اس مرض کے لئے کوئی مخصوص دوا تو دستیاب نہیں ہے، ڈاکٹر مریض کے جسم میں نمکیات پانی کی مقدار کو زیادہ کرتے ہیں اور ساتھ میں انہیں درد کو کم کرنے کی ادویات دی جاتی ہیں، ڈینگی ہمیرجک فیور میں پلیٹ لیٹس لگائی جاتی ہیں،اس مرض سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے.انسان خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائے۔

ڈینگی بخار سے بچنے کے لئے یہ احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں، سب پہلے تو کسی بھی جگہ پر پانی کھڑا نہ ہونے دیں، اگر پانی ذخیرہ کرنا ہو تو اس کو لازمی طور پر ڈھانپ دیں، گھر میں لگے پودوں اور گملوں میں پانی جمع نا ہونے دیں، کوڑاکرکٹ جمع نہ ہونے دیں، پرانے ٹائر خاص طور پر ان مچھروں کی آماجگاہ ہوتے ہیں انہیں گھر پر نا رکھیں، گھر میں پانی کی ٹینکی کو ڈھانپ کر رکھیں، باتھ روم میں بھی پانی کھڑا نا ہونے دیں اور اس کا دروازہ بند رکھیں، روم کولرز میں سے پانی نکال دیں، اسٹور کی بھی صفائی کریں اور وہاں بھی اسپرے کریں، اگر تب بھی مچھروں سے نجات نا ہو تو مقامی انتظامیہ سے اسپرے کی درخواست کریں۔

اپنی حفاظت کے لئےمچھر مار اسپرے استعمال کریں یا مچھربھگائو لوشن استعمال کریں، پورے بازو کی قمیض پہنیں اور جو حصہ کپڑے سے نا ڈھکا ہو جیسا ہاتھ ، پائوں، گردن وغیرہ وہاں پر لوشن لگائیں، گھر میں جالی لگوائیں اور بلاضرورت کھڑکیاں نا کھو لیں، ڈینگی کا مچھر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ کاٹتا ہے، اس لئے اس وقت خاص طور پر احتیاط کریں، سوتے وقت نیٹ کے اندر سوئیںاورکوائیل کا استعمال کریں۔

ڈینگی کا علاج اگر بروقت شروع کروالیا جائے تو مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے، اس بات کا خاص خیال رکھاجائےکہ مریض کوپانی ،جوس ،دودھ ،فروٹس اور یخنی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کروایا جائے، سیب کے جوس میں لیموں کا عرق بھی مریض میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے، اس کو ہرگز بھی اسپرین نا دی جائے۔

تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ستمبر، اکتوبر اور نومبر جو ڈینگی مچھر کے افزائش کے ماہ ہیں، ان میں متواتر اسپرے کروائیں، جہاں پانی کھڑا ہو وہاں پر خاص طور پر اسپرے بہت ضروری ہے۔

عوام میں اس مرض سے بچنے کے لئے آگاہی پھیلائیں، اسپتالوں میں ڈینگی بخار سے متعلق معلوماتی کائونٹر قائم کئے جائیں، اس مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے اگر ان مچھروں کی افزائش نا ہونے دی جائے، 2011 جیسی صورتحال سے بچنے کے لئے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی حکومتوں کو کام شروع کردینا چاہئے۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias - See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=11172#sthash.5dNKpHdG.dpuf

Kitab Us Salat By Mufti Abdul Shakoor Qasmi کتاب الصلوۃ

Kitab Us Salat By Mufti Abdul Shakoor Qasmi کتاب الصلوۃ 

Read Online

Kitab Us Salat By Mufti Abdul Shakoor Qasmi کتاب الصلوۃ

Kitab Us Salat By Mufti Abdul Shakoor Qasmi کتاب الصلوۃ

Download (10MB)

 

Friday, October 23, 2015

خواب تو اچھے ہوتے ہیں

خواب تو اچھے ہوتے ہیں


’’کچھ سنا تم نے؟‘‘
’’نہیں! میں سنتا نہیں صرف دیکھتا ہوں۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘
’’اس لیے کہ اب ریڈیو کا زمانہ نہیں ٹی وی کا زمانہ ہے۔‘‘
’’ٹی وی کو دیکھتے ہو ، سنتے نہیں ہو کیا؟‘‘
’’نہیں ! سنتا ہوں لیکن دوسرے کان سے نکال دیتا ہوں۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘
’’ایسی کوئی بات ہی نہیں ہوتی کہ جسے کان کے درمیان دماغ میں جگہ دی جاسکے۔ ‘‘
’’چیک کرواؤ …… مجھے تو ایسا لگتا ہے تمہارا دماغ ہی ختم ہوگیاہے۔‘‘
’’نہیں دماغ نے کیا ختم ہونا ہے ، بس چلنا چھوڑ دیا ہے اس نے۔ ‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘
’’لوگ کہتے ہیں دماغ چل گیا ہے بڈھے کا! تبھی ایسی باتیں کرتا ہے۔‘‘
’’مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے!!‘‘
’’کیا مطلب ہے تمہارا !‘‘
’’دماغ کو چھوڑویہ بتاؤ دن بھر کیا دیکھتے ہو؟‘‘
’’لڑائی مار کٹائی!!‘‘
’’تم نے سنا نہیں میں تمہارے گھر کی بات نہیں کر رہا ۔ ٹی وی پر کیا دیکھتے ہو یہ پوچھ رہا ہوں۔‘‘
’’جو گھر میں چل رہا ہے وہی ٹی وی پر بھی چل رہا ہے۔ اب سمجھ نہیں آتا کہ ٹی وی دیکھوں کہ گھر دیکھوں۔‘‘
’’مطلب کیا ہے تمہارا ؟‘‘
’’جو ٹی وی پر دکھایا جائے گا وہی گھر میں بھی ہوگا۔ڈراموں میں بیٹیوں کو گھر سے بھاگنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ ساس سسر کو کس طرح مٹھی میں رکھنا ہے ، شوہر کو کس طرح قابو میں رکھنا ہے، بہو سے کس طرح بات کرنی ہے ۔ سبھی کچھ ان ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے۔ جس کو دیکھ کر کس گھر میں سکون آئے گا…… اور تو اور نیوز چینلز لگاؤ تو وہاں بھی ڈراموں میں کرائمز کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ‘‘
’’تو کیا یہ سب ہمارے معاشرے میں نہیں ہوتا جو ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے؟‘‘
’’ہوتا ہوگا مجھے کیا پتا …… لیکن ہم نے کبھی گھر کے گندے کپڑے بیچ چوراہے پر نہیں دھوئے۔ جھگڑے کس گھر میں نہیں ہوتے لیکن اگر ان جھگڑوں میں محلے والوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو کیا تمہارا خیال ہے کہ اس سے مسائل حل ہوجائیں گے۔ کسی زمانے میں بڑے بوڑھے ان جھگڑوں کو بڑھنے نہیں دیتے تھے۔ لیکن آج ہم نے ان کو گھروں سے یا تو نکال باہر کیا ہے یا ان کو وہ مقام ہی نہیں دیا کہ وہ آپ کے جھگڑوں کو دور کرسکیں ۔ نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ ‘‘
’’یہ بات تو تمہاری ٹھیک ہی ہے!‘‘
’’تم ابھی کوئی بھی نیوز چینل لگا لو۔ کسی کے مرنے ، رونے اور دھاڑنے کی بری خبریں ہی ملیں گی۔ ایسا لگتا ہے جیسے پورے ملک میں کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ کسی ایک کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو آپ پورے ملک کے ساتھ زیادتی کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ ‘‘
’’تم نیوز نہ سنا کرو۔ سیاسی پروگرام دیکھا کرو…… وہ بھی کسی ڈرامے سے کم نہیں ہوتے اور اس سے بھی کافی تفریح میسر آجاتی ہے۔‘‘
’’رہنے دو ان سیاسی چکر بازیوں کو۔ الزامات اور برا بھلا کہنے کے علاوہ ہے ہی کیا ان کے پاس……!!‘‘
’’خواب!! ‘‘
’’خواب تو ہم بچپن سے دیکھتے آرہے ہیں لیکن کبھی حقیقت کا رو پ نہیں ملا انہیں۔خواب دیکھتے دیکھتے ہی تو قوم سو گئی ہے اور آج بھی دیکھ رہی ہے۔ نہیں دیکھنے ہم نے یہ خواب۔‘‘
’’خواب تو اچھے ہوتے ہیں!‘‘
’’لگتا ہے تم کمرشل ایڈ دیکھتے ہو ، خواب بڑے خوبصورت دکھائے جاتے ہیں۔ جس میں داغوں کو بھی اچھا کردیا ہے۔اگر اس ملک میں کچھ سستا ہوا ہے تو وہ یا تو انسان کا خون ہے یا پھر یہ موبائل کا نیٹ ورک۔لوگوں کو ایسا باتوں میں لگایا ہے کہ لوگ گھنٹوں گھنٹوں باتیں کرتے رہتے ہیں۔ گھر کا چولہا ٹھنڈا پڑا ہے ، پتا چلا بیگم میکے میں موبائل پر باتیں کررہی ہیں۔‘‘
’’خواب تو امید ہوتے ہیں ، اگر یہ بھی ختم ہوگئے تو پھر ہمارے پاس کیا بچے گا سوائے باتیں کرنے کے…… اور اگر یہ باتیں بھی ہم نہ کریں تو کیا کریں! بات چیت بھی جاری رہنی چاہیے کیونکہ بات کرنے سے اکثربات بن جاتی ہے ورنہ مایوسی بڑھتی ہے…… اس لیے خواب اچھے نہیں بلکہ بہت اچھے ہوتے ہیں! ‘‘
’’کر لو باتیں…… پچاس سال سے باتیں ہی تو سن رہا ہوں لیکن یاد رکھو میں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا ہوں۔ ہاں دیکھتا ہوں…… صرف دیکھتا ہوں اور دیکھتا ہی چلا جاتا ہوں……

(Author: Mir Shahid)